poetry

تجھ بن گھر کتنا سونا تھا

تجھ بن گھر کتنا سونا تھا
دیواروں سے ڈر لگتا تھا

بھولی نہیں وہ شام جدائی
میں اس روز بہت رویا تھا

تجھ کو جانے کی جلدی تھی
اور میں تجھ کو روک رہا تھا

میری آنکھیں بھی روتی تھیں
شام کا تارا بھی روتا تھا

گلیاں شام سے بجھی بجھی تھیں
چاند بھی جلدی ڈوب گیا تھا

سناٹے میں جیسے کوئی
دور سے آوازیں دیتا تھا

یادوں کی سیڑھی سے ناصرؔ
رات اک سایا سا اترا تھا

About the author

Ali Raza

Leave a Comment